ڈاکٹرعبدالقدیر خان مرحوم کی فریاد بالآخر سن لی گئی، کونسی عدالت نے فیصلہ سنا دیا ؟نامورکالم نگار کا تہلکہ خیز تجزیہ

Advertisements

ڈاکٹر عبدالقدیر خان مرحوم کی فریاد بالآخر سنی گئی‘ہاں مگر پسِ مرگ۔ان کی آزادانہ نقل و حرکت پر پرویز مشرف صاحب کے دور میں پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ اس حکم کے خلاف انہوں نے عدالت میں درخواست دائر کر رکھی تھی۔ ڈاکٹر صاحب نے مگر فیصلے کا انتظار نہ کیا۔ اس سے پہلے کہ فیصلہ سنایا جاتا‘ وہ خدا کی عدالت میں پیش ہوگئے :اس کے
ایفائے عہد تک نہ جئے۔۔۔عمر نے ہم سے بے وفائی کی۔۔۔۔بچپن میں ہمیں جو دعا ئیںسکھائی گئی تھیں‘ان میں سے ایک تو اللہ کا صد شکر کہ پوری ہوئی۔یہ تھانے کچہری سے پناہ کی دعا تھی۔اس جہانِ فانی میںجیتے ہوئے‘ نصف صدی سے کچھ برس اوپر ہو چلے۔اللہ نے تھانے کچہری سے بچائے رکھا۔ہاں‘مگر ایک ا ستثنا ہے۔سچ پوچھئے تو یہ قدرت کے کسی فیصلے سے زیادہ ہماری کم عقلی کا شاخسانہ دکھائی دیتا ہے۔وہی کہ آ بیل مجھے مار۔یہ ان دنوں کی بات ہے جب میںایک ٹی وی چینل سے وابستہ تھا۔ہمارے ایک ہم دفترپر ایک الزام لگا۔دفتری تحقیقات میں وہ بے گناہ ثابت ہوئے۔انہوں نے الزام تراشنے والوں کے خلاف عدالت سے رجوع کر لیا اور ان پر ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر کر دیا۔مجھ سے انہوں نے گواہی کے لیے کہا۔میں نے ہامی بھر لی کہ جو میں جانتا ہوں ‘سچ سچ عدالت کوبتا دوں گا۔میرا خیال یہ تھا کہ ایک آدھ بار عدالت جانا ہوگا اور میرا کام ختم۔ بس یہی میری بھول تھی۔تین سال ہوگئے‘گواہ آگے آگے ہے اور مقدمہ پیچھے پیچھے۔اس مقدمے کا آغاز 2019 ء میں ہوا۔تادمِ تحریرکئی بار عدالت جا چکا ہوں۔ہر بار نئی تاریخ مل جا تی ہے اور میں لوٹ آتا ہوں۔کبھی منصف تبدیل ہو جاتے ہیں اور کبھی وکیل پیش نہیں ہو تے۔کبھی ایک فریق نہیں اور کبھی دوسرا نہیں۔مدعی ہر پیشی پرمجھ سے معذرت کرتا ہے اور میں اس کے سامنے شرمندہ ہوتا ہوں کہ اس تاخیر میں اس کا کیا قصور۔ پھر سوچتا ہوں کہ قصور میرا بھی نہیں‘بجز اس کے کہ میں نے اپنے طور پر عدالت کی مدد کرنا چاہی کہ وہ صحیح فیصلے
تک پہنچ سکے۔مجھے تو یہ تربیت ملی تھی کہ ایک شہری کا فرض ہے‘ مقدمات میں عدالت کی مدد کرنا۔ مذہب کے مطالعے سے بھی یہی جانا کہ گواہی کو چھپانا نہیں چاہیے۔ میری مدد سے اگر ایک شریف آدمی کی عزت پر لگایا گیا داغ دھلتا ہے تومجھے اسے اپنا اخلاقی فریضہ سمجھ کرپیش قدمی کرنی چاہیے۔یہ فریضہ ادا کر تے کرتے تین برس ہو گئے۔ میں کبھی سوچتا ہوں کہ اس مقدمے میں ‘میں نہ مدعی نہ مدعا علیہ۔نہ لینا نہ دینا۔ پھر یہ کس عذاب میں مبتلا ہو گیا؟کسی کو الزام بھی نہیں دے سکتا کہ سب ایک نظام میں بندھے ہوئے ہیں۔کیا عدالت اور کیا وکیل۔عدالت کو اطمینان نہ ہو تووہ فیصلہ کیسے سنائے؟اطمینان کوئی ایسی شے نہیں جسے دو اور دو چار کی طرح بیان کیا جا سکے۔پھر سوچتا ہوں ‘کیا یہ میرا قصور تھا کہ ایک اچھا شہری بننے کی تمنا کی؟ایسی تمنا جو تادم ِتحریر پوری نہ ہوئی۔میںاس تمنا کے پورا ہونے کی تمنا کرتا ہوں اورآپ اس دوران میں ‘میر صاحب کا شعر سنئے :؎وصل کے دن کی آرزو ہی رہی۔۔۔شب نہ آخر ہوئی جدائی کی۔۔۔برسوں پہلے‘غالباً’افکارِ پریشان‘ میں‘یہ واقعہ پڑھاتھا۔یہ جسٹس ایم آر کیانی کی تقاریر کامجموعہ ہے۔ایسا ہی ایک مجموعہ ان کی انگریزی تقاریر کا بھی ہے: A Judge May Laugh‘ ان کے علاوہ بھی ان کی کتب ہیں۔میرا احساس ہے کہ پاکستانی سیاست وتاریخ کا کوئی طالب علم ان کتابوں سے بے نیاز
نہیں ہو سکتا۔جبر کیا ہوتا ہے؟حلقۂ زنجیر میں زباں ہو تو بات کیسے کی جاتی ہے؟ایوب خان کا دور کیسا تھا جس کے گیت نگار آج بھی پائے جاتے ہیں؟ان سب سوالات کے جواب‘ جسٹس صاحب نے فراہم کئے ہیں اور پھر اس پر مستزاد‘ان کی بزلہ سنجی ا ور اسلوبِ کلام۔سبحان اللہ!کیانی مرحوم نے ایک قصہ بیان کیاہے کہ جب انہوں نے بحیثیت جج ایک فیصلہ سنایا تومتاثرہ خاتون چیخ اٹھی: ‘ میں نے سوچا تھا یہ عدالت ہے یہاں انصاف ہوگا‘۔ کیانی صاحب نے کہا: بی بی! یہ عدالت نہیں‘ کچہری ہے۔یہاں انصاف نہیں ‘ فیصلے ہوتے ہیں۔(اس وقت کتاب پیشِ نظر نہیں۔حافظے پرانحصار کرتے ہوئے لکھ رہا ہوں)یہ دراصل عہدِ ایوبی کی ایک تصویر ہے کہ تب عدالتوں میں کیا ہوتا تھا۔فوری انصاف کیسے ممکن ہے؟تلاش ِعدل کا یہ عمل مختصرکیسے ہو؟یہ سوال ہمارے نظام عدل کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے۔فیصلوں میں عجلت اس لیے روا نہیں رکھی جاتی کہ کہیں کوئی بے گناہ ‘سزا کا مستحق نہ قرار پائے۔یہ مانا جاتا ہے کہ کسی گناہ گار کا سزا سے بچ جانا اتنا بڑا ظلم نہیں جتنا کسی بے گناہ کا مجرم ٹھہرایا جانا۔اس بات میں وزن ہے لیکن اس کے ساتھ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ انصاف میں تاخیر انصاف کا انکار ہے۔چیلنج یہی ہے کہ ان دونوں باتوں کا لحاظ‘ ایک ساتھ کیسے رکھا جائے؟مسائل‘ قانون کی تعریف سے نفاذ کے طریقے تک اور ایف آئی آر درج کرنے سے وکلا کے رویے تک‘ہر جگہ موجود ہیں۔ قانون بنتا ہے تو اسلامی اور غیر اسلامی کی بحث شروع ہو جاتی ہے۔اس بحث میں سب سے اہم قانونِ شہادت ہے۔اسلامی قانون کی جو تعبیر کی جاتی ہے ‘اس میں حدود کے مقدمات میں خاتون اور غیر مسلم کی گواہی قبول ہوتی ہے اور نہ واقعاتی شہادت۔ ایسامرد گواہ بھی نہیں ملتا
جو شہادت کے اسلامی معیار پر پورا اترتا ہو۔طریقہ کار میں وکلا کا رویہ سب سے اہم ہے۔حیلوں بہانوں سے مقدمے کو مؤخرکروانا‘ایک ماہر وکیل کی نشانی سمجھا جاتا ہے۔ گواہوں کا معاملہ تو میں عرض کر چکا۔ کچہری میں ایسے افراد کی بھرمار ہے جن کا پیشہ ہی گواہی دینا ہے۔معاملہ یہاں تک نہیں رکتا‘مگر مجھے یہیں رکنا ہے کہ اس کے بعد ‘پر جلنے کا اندیشہ ہے۔میں بطور ِگواہ عدالت میں حاضر ہوتا ہوں‘اس سے زیادہ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔حد چاہیے سزا میں عقوبت کے واسطے۔۔۔آخر گناہ گار ہوں کافر نہیں ہوں میں۔۔۔ہم نے بعض مقدمات میں عجلت ہوتے بھی دیکھی۔ ایسی پھرتیاں کہ آدمی حیران رہ جائے۔ دنوں میں عشروں کی تاریخ کھنگال دی گئی۔ ادارے تین تین نسلوں کا کچا چٹھا نکال لائے۔ ہم نے فیصلے ہوتے اور ان کا نفاذہوتے دیکھا۔ یہ پھرتیاں مگر خاص لوگوں کے لیے تھیں‘بلکہ خاص الخواص کے لیے۔ ڈاکٹر صاحب تو خاص آدمی تھے مگر فریقِ ثانی خاص الخواص تھا۔ رہا عام آدمی تووہ فوری انصاف کے لیے ترس رہا ہے۔ فوجداری مقدمات کے بارے میں مشہور ہے کہ دادا کے مقدمے کا فیصلہ پوتا سنتا ہے۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان پہلے آدمی نہیں ہیں جس کی درخواست پسِ مرگ سنی گئی۔اس سے پہلے نہیں معلوم کتنے تھے جن کی بریت کا فیصلہ آیا تو وہ اس قید ِحیات سے بری ہو چکے تھے۔ہم ان کا توشاید شمارنہ کرپائیں جن کا کوئی فیصلہ ہی نہیںہوا۔نہ مجرم ٹھہرائے گئے نہ بے گناہ۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان مرحوم کے مقدمے میں کوئی خبریت نہیں۔اس نے البتہ مجھے اپنی عدالت بیتی سنانے کا موقع فراہم کردیا۔گویامیر صاحب کا مطلع ‘کالم کا ‘مقطع‘ بن گیا؎ہے غزل میرؔ یہ شفائی کی ہم نے بھی طبع آزمائی کی

Leave a Comment