شہباز شریف کے کاغذاتِ نامزدگی منظور ہونے کے بعد ایف آئی اے کو پہلا حکم کیا ملا؟ فواد چوہدری کا تہلکہ خیز دعویٰ

Advertisements

اسلام آباد (مانیٹرنگ، آن لائن)وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ویلکم بیک ٹو پرانا پاکستان،تحریک عدم اعتماد میں ووٹنگ آزاد اور محکوم پاکستان کے درمیان ہے، سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں فواد چوہدری نے کہا کہ شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی منظور ہونے کے بعد ایف آئی اے سے پہلا آرڈر یہ ہوا
ہے کہ آج وکلاء کی ٹیم شہباز شریف کے مقدمے میں فرد جرم کیلئے پیش نہیں ہو گی۔ سابق وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ہم استعفیٰ دینے کا آغاز قومی اسمبلی سے کررہے ہیں، اگر شہباز شریف کے کاغذات پر ہمارے اعتراضات منظور نہیں ہوتے تو ہم استعفیٰ دے دیں گے۔اسلام آباد میں سابق وزیر داخلہ شیخ رشید اور پی ٹی آئی رہنما ؤں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ آج عمران خان کے ہمراہ پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کی میٹنگ بنی گالا میں ہوئی، ہم نے ساری صورتحال کا گہرائی سے جائزہ لیا۔انہوں نے کہا کہ ہماری کور کمیٹی کی اس پر کوئی دو رائے نہیں ہے کہ حکومت کی تبدیلی ایک بہت بڑے بین الاقوامی ’رجیم چینج آپریشن‘ کے تحت ہوئی، ہم نے اس لیٹر کو ڈی کلاسیفائی کرکے اسپیکر اور چیف جسٹس کو بھی بھیجا اور چیئیرمین سینیٹ کے پاس وہ پہلے ہی موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی غیرت مند یہ قبول نہیں کرسکتا کہ ملک کے فیصلے کوئی باہر کے ملک کے دارالحکومت میں کیے جائیں، ہم سمجھتے ہیں کہ ملک 1940 میں واپس چلا گیا ہے اور 23 مارچ 1940 کی طرح عوام کو دوبارہ جدوجہد کرنا پڑے گی۔فواد چوہدری نے کہا کہ سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی نے اور عمران خان نے پورے پاکستان سے یہ اپیل کی ہے کہ وہ د ڈسٹڑکٹ ہیڈ کوارٹرز میں بھرپور احتجاج کے لیے باہر نکلیں،
ہم نے احتجاج کے لیے منتخب مقامات کی تفصیلات سوشل میڈیا پر شیئر کردی ہیں۔ سابق وزیراطلاعات نے کہا کہ ا?ج ہم نے شاہ محمود قریشی کو اپنا وزیراعظم نامزد کیا ہے، اس الیکشن لڑنے کے 2 مقاصد ہیں، ایک یہ کہ ہم شہباز شریف کے کاغذات کو چیلنج کر سکیں، افسوس کی بات ہے کہ جس شہباز شریف پر 16 ارب کا کیس ہے اور جس دن ان پر فرد جرم عائد ہونی تھی اس دن وہ وزیراعظم پاکستان کا الیکشن لڑ رہے ہوں گے، اس سے زیادہ توہین آمیز بات کیا ہوگی کہ ایک بیرونی امپورٹڈ اور سلیکٹڈ حکومت پاکستان پر نافذ کردی گئی اور شہباز شریف کو اس کا سربراہ بنا دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کور کمیٹی کی وزیراعظم کو یہ تجویز ہے کہ ہمیں اسمبلیوں سے مستعفی ہوجانا چاہیے، اس کا آ غاز ہم قومی اسمبلی سے کررہے ہیں، اگر شہباز شریف کے کاغذات پر ہمارے اعتراضات منظور نہیں ہوتے تو پیر کو ہم استعفٰی دے دیں گے۔ سابق وزیراطلاعات نے کہا کہ اگر انہوں نے شہباز شریف کو وزیراعظم بنانے کا فیصلہ کرلیا ہے تو ہم نے مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا ہے، یہ ہمارا آخری فیصلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوری قوم اس وقت عمران خان سے رہنمائی کی توقع رکھتی ہے، ہم نے اگراس وقت قوم کو مایوس کیا اور ایک بڑی تحریک کی قیادت عمران خان نے نہیں کی تو یہ پاکستان کی سیاست اور آئین کے ساتھ دھوکا ہوگا، اس کے علاوہ کوئی
چارہ نہیں ہے کہ ہم اس غیرقانونی حکومت کو مسترد کریں۔فواد چوہدری نے کہا کہ ہم ایک بھرپور اور جامع پلان دیں گے اور ان شا اللہ ہمیں امید ہے کہ چند ہی مہینوں یا ہفتوں میں ملک میں نئے انتخابات کی جانب بڑھیں گے، نئے انتخابات کے علاوہ اس بحران کا کوئی حل نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے ہمیں امید تھی کہ بحران کا حل نکلے گا، لیکن ان کے فیصلے سے یہ بحران زیادہ پیچیدہ ہوا، رات کو 12 بجے جس طرح عدالتیں کھلیں اب لگتا ہے کہ شاید ہماری عدلیہ عالمی فہرست میں 126ویں نمبر سے بھی کہیں ا?خری نمبر پر چلی جائے تو زیادہ حیرت نہیں ہوگی، اس بات کو پاکستان کے لوگوں نے دل سے ناپسند کیا ہے۔ فواد چوہدری نے کہا کہ جب تک ہم اس حکومت کو اسلام آباد کے ایوانوں سے اٹھا کر باہر نہیں پھینکیں گے اس وقت تک پاکستان میں ناپاک حکومت قائم رہے گی، ان شا اللہ آج رات سے ہی ہم یہ تحریک شروع کریں گے۔چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال اور ان کے خاندان کی مبینہ طور پر پی ٹی آئی کے حامیوں کی جانب سے‘ٹرولنگ‘ کے سوال پر انہوں ایسے عناصر سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کا سوشل میڈیا پر کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ اس موقع پر شیخ رشید نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قومی اسمبلی میں چور ڈاکو ؤں کے ساتھ نہیں بیٹھیں گے، قومی اسمبلی سے مستعفی ہونے جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ شہباز شریف پر کل فرد جرم عائد ہونے جارہی تھی، جن چھوٹے ڈاکو اور بڑے ڈاکو پر کل فرد جرم لگنی تھی ان کے ساتھ اسمبلی میں شریک نہیں ہوسکتے، سب نے اتفاق رائے سے فیصلہ کیا ہے کہ ہم قومی اسمبلی سے مستعفی ہونے جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تمام کے تمام ارکان
استعفیٰ دیں گے۔اس موقع پر فرخ حبیب نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جس طریقے سے عمران خان نے بیرونی سازش کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کیا اس پر پوری کور کمیٹی نے آج ان کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کو کسی کرپشن یا منی لانڈنرگ کے جرم میں نہیں ہٹایا گیا جیسے ان کے مخالفین پر ہیں، ا?ج پاکستان کے عوام پوچھ رہے ہیں کہ کیا ایسے ہی راتوں رات انصاف مقصود چپڑاسیوں کے خلاف بھی ہوگا جنہوں نے ملک کو لوٹا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان شا اللہ چند روز کے اندر عمران خان صاحب پشاور سے عوامی تحریک کا آغاز کرنے جارہے ہیں، عمران خان کی ساری جدوجہد پاکستان کے عوام کے لیے ہے، لوگ کسی صورت اس امپورٹڈ حکومت کو ماننے کو تیار نہیں ہیں۔ اس موقع پر حماد اظہر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کل پاکستان کے سب سے نڈر اور مقبول لیڈر کو جس طرح بیرونی سازش کے ذریعے ہٹایا گیا یہ پوری قوم کا نقصان ہے، پورے عالم اسلام میں عمران خان کے قد کا کوئی لیڈر نہیں ہے۔انہوں نے کہا آج جو کٹھ پتلی حکومت بنانے کی کوشش کی جارہی ہے اگر ہم اس کے ساتھ جاکر بیٹھ جائیں تو ہم اپنے حلف کے ساتھ وفاداری نہیں کریں گے، قوم کے باہر نکلنے کا وقت آگیا ہے، آج رات ملک بھر کے مختلف شہروں پر پرامن احتجاج ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ یہ ملک آزاد تھا، کل کے دن اسے دوبارہ غلام بنایا گیا، ان شا اللہ چند روز میں یہ دوبارہ آزاد ہوگا۔

Leave a Comment